Baloch National Movement
  • Statements
    • Chairperson
    • Secretary-General
    • Spokesperson
  • Chapters
    • Germany
    • South Korea
    • Netherlands
    • USA
    • UK
  • Zones
    • Awaran Zone
    • Kech Gwader Zone
    • BNM Kho-e-Siliman
    • BNM Panjgur
  • Departments
    • Paank-HR Department
    • Foreign Department
    • Welfare Department
  • More Links
    • Cabinet Meetings
    • Campaigns
    • Central Committee Meetings
    • Commemorative
    • Departments
    • Elections
    • Foreign Department
    • Interviews
    • National Council sessions
    • Organizational Programs
    • Pamphlets
    • Posters
    • Press Conferences
    • Conferences
    • Protests
    • Public Gatherings
    • Seminars
  • Other Websites
    • Paank
    • The Baloch Martyrs
    • BNM Footages
    • Old Website (Archive )
    • Old blog (Archive)
  • Languages
    • Balochi
    • Brahui
    • Urdu
    • Farsi
Reading: آزاد، عادلانہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کا قیام نہ صرف ممکن ہے بلکہ ناگزیر بھی ہے ۔ بی این ایم کا آواران ھنکین میں تقریب
Share
Search
Baloch National MovementBaloch National Movement
Font ResizerAa
Search
Have an existing account? Sign In
Follow US
© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.
Home ★ Blog ★ آزاد، عادلانہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کا قیام نہ صرف ممکن ہے بلکہ ناگزیر بھی ہے ۔ بی این ایم کا آواران ھنکین میں تقریب
آواران زونپروگرامات

آزاد، عادلانہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کا قیام نہ صرف ممکن ہے بلکہ ناگزیر بھی ہے ۔ بی این ایم کا آواران ھنکین میں تقریب

BNM Mashkai
Last updated: August 14, 2026 8:04 am
Last updated: August 14, 2026
3 Min Read
Share
SHARE

اگست ‘یومِ تجدیدِ عہدِ بلوچ ‘ کی مناسبت سے آواران ھنکین میں منعقدہ تقریب سے تلار ناز، میرک ، زبیر اور مسعود نے خطاب کیا۔ مقررین نے 11 اگست کو بلوچ قوم کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن قوم کو اپنی چھینی گئی آزادی کے حصول اور ناانصافی کے خلاف مسلسل جدوجہد کا درس دیتا ہے۔ انھوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ غاصبانہ تسلط کے خاتمے، قومی شناخت کے تحفظ اور آزاد ریاست کے قیام تک بلوچ و قومی تحریک تمام تر قربانیوں کے ساتھ جاری رہے گی۔

تاریخی پس منظر کو اجاگر کرتے ہوئے مقررین نے بتایا کہ 13 نومبر 1839ء کو برطانیہ نے کلات پر حملہ کر کے بلوچستان کی طویل غلامی کی بنیاد رکھی تھی، مگر خانِ بلوچ میر محراب خان اور ان کے رفقاء نے قبضے کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور قومی خودمختاری کی شمع کو روشن رکھا۔ دہائیوں پر محیط مسلسل مزاحمت اور بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں انگریزوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور بالآخر 11 اگست 1947 کو بلوچستان نے اپنی آزادی بحال کر لی۔ مقررین کے مطابق، خانِ بلوچ اور تمام شہداء کی یہ مقاومت آج بھی بلوچ قوم کے لیے فخر اور جدوجہد کا سرچشمہ ہے۔

تقریب کے دوران اس بات پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا کہ 11 اگست 1947 کو حاصل ہونے والی آزادی کے تھوڑے ہی عرصے بعد، 27 مارچ 1948ء کو پاکستان نے طاقت اور دھوکہ دہی کے زور پر بلوچستان پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور فوجی کارروائیوں جیسے مظالم کے باوجود بلوچ قوم نے اس تسلط کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ بلوچ قوم اور اس کی قیادت آج بھی اپنے وطن کی آزادی کی بحالی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے نسل در نسل قربانیاں دینے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

مقررین نے ماضی کی قومی خامیوں کا جائزہ لینے اور جدید تقاضوں کے مطابق قوم کو منظم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ محض آزادی کا مطالبہ کافی نہیں، بلکہ مستقبل میں آزاد بلوچستان کے استحکام کے لیے تعلیم، دفاع اور عالمی پیشرفت کے شعبوں میں خود کو تیار کرنا ہوگا۔ دشمن کے اس پراپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے کہ “بلوچستان آزاد ہو کر ترقی نہیں کر سکتا”، انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے پاس بہترین جغرافیائی موقع، طویل ساحل، بے شمار قدرتی وسائل، زرخیز تاریخ اور ثقافت موجود ہے، جس کی بدولت ایک آزاد، عادلانہ اور ترقی یافتہ ریاست کا قیام نہ صرف ممکن ہے بلکہ ناگزیر بھی ہے۔

Share This Article
Facebook Email Copy Link Print

Reports and Statements

بلوچستان کے جبری گمشدگان کی خاموش فریاد، بی این ایم کی جنیوا میں تصویری نمائش

انھوں نے کہا کہ بی این ایم کی عالمی مہم اسی سوال کو اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم تک…

پروگرامات
September 29, 2026

جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج: بلوچستان میں جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، مرنے کا وقار بھی

سندھی ، پشتون ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے نمائندگان کی شرکت سے یہ خطے کے محکوم اقوام کی مشترکہ…

احتجاج
September 27, 2026

شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران بی این ایم کا احتجاج، ’آزاد بلوچستان‘ کے نعرے

بی این ایم نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بلوچستان کی صورتِ حال پر ’خاموشی ختم کرنے‘ اور ’فوری…

احتجاج
September 26, 2026

نیویارک میں بی این ایم کی ڈیجیٹل ٹرک مہم، بلوچستان کی صورتحال سے عالمی آگاہی کی کوشش

اس مہم کا مقصد شہر میں موجود بین الاقوامی نمائندوں، صحافیوں، شہریوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے…

پروگرامات
September 26, 2026

Follow US on Socials

Baloch Nationl Movement

Founded in 1987, the Baloch National Movement (BNM) is a revolutionary nationalist political organization fighting for Balochistan’s freedom.

Follow BNM

  • Paank
  • Footages
  • The Baloch Martyrs

© 2026 BNM. All rights reserved by the Information, IT, and Cultural Department (IIC) of the BNM. You may republish this content anywhere with proper attribution.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?